پشاور: کار بم دھماکا،10 افراد جاں بحق،75 زخمی
پشاور کے علاقے صدر میں فخر عالم روڈ پر واقع نجی بینک کے قریب کار بم دھماکے میں10افراد جاں بحق اور 75 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ امیرحیدر ہوتی نے مرنے والوں کے لواحقین کیلئے امداد کا اعلان کیا ہے۔ دھماکے کے مقام سے 2مشکوک افراد کو حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیاگیا ہے۔ دھماکا12بجے سے کچھ دیر پہلے ہواجس کے نتیجے میں 2درجن کے قریب گاڑیاں تباہ ہو گئیں ،25 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ جبکہ 50 زخمیوں کو سی ایم ایچ لایا گیا ۔ ایس ایس پی آپریشنزعبدالغفور آفریدی کے مطابق دھماکے میں100 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ جائے وقوع پر مرنے والوں کے اعضاء بکھر گئے جبکہ علاقہ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ7منزلہ عمارت کو کافی عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز موادقریبی موجود پارکنگ میں ایک گاڑی میں رکھا ہو تھا تاہم دھماکے کی حتمی نوعیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ علاقے کو فورسز نے گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی ۔وزیر داخلہ رحمن ملک ،وزیر دفاع چوہدری احمد مختار،اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا،وزیر اعلیٰ اور گورنر سرحدنے پشاور بم دھماکے کی شدید الفاط میں مذمت کی ہے۔

بنوں خودکش حملہ،6افراد جاں بحق ،تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی بنوں کے تھانا منڈان پر خود کش حملے میں 6 افراد جاں بحق اور65 سے زائد زخمی ہوگئے۔واقعے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔ پولیس کے مطابق بنوں شہر سے آٹھ کلو میٹر دور تھانا منڈان کے عمارت کے سامنے خود کش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت ،قریبی مسجد،متعدد مکانات اور بیس سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا۔دھماکے کی جگہ پر 8 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے، واقعے میں دو بچے ،دو حوالاتی اور دو پولیس اہل کار جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں 30 پولیس اہل کار، اور 35 عام شہری ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے جو صبح اسکول جارہے تھے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز اسپتال بنوں پہنچادیاگیا ہے ۔شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ہے اور اسپتال جانے والی سڑکوں کو عام آمد و رفت کے لئے بند کردیاگیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں 8 سے 10 من بارودی مواد تھا۔ دھماکے کی جگہ پر 8 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔ جائے حادثہ سے خودکش حملہ آورکا سر اور ٹانگیں مل گئی ہیں، اس کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ پولیس نے پولیس اسٹیشن منڈان کے قریب سے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائی جاری ہے اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان قاری حسین نے بنوں خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔